اس کے اپنے درمیاں ایستادہ اک دیوار میں
ایک دشتِ شادمانی، اس میں اک آزار میں
میں نہیں تھا، تُو ہی تھا عالم میں لیکن تیرے بعد
اے خداۓ عز و جل! تیرا ہوا اظہار میں
شمع سے ہے نور جیسا تیرا میرا انسلاک
وقت کی سازش کہوں یا پھر مشیّت غیب کی
تیر زن کوئی بھی ہو لیکن ہدف ہر بار میں
کل تلک اس کا رہا تھا دل کو میرے اشتیاق
آج وہ نزدیک ہے پر اس سے ہوں بیزار میں
اب کھلا کہ ہو گا وہ ہی جو لکھا ہے بخت میں
مبتلا اندیشۂ فردا رہا بے کار میں
اک نہ اک دن تو مسخر اس کو ہونا ہے ندیم
وہ خلاؤں کا مکیں تو نور کی رفتار میں
جاوید ندیم
No comments:
Post a Comment