بلاوے
اقتباس از نظم
کچھ بلاوے جسم کے ہیں
کچھ بلاوے روح کے
کچھ بلاوے
بے سمجھے اندھے جذبوں کے جو جسم سے الگ ہیں
لیکن جسم
اپنے نازک موقعوں پر
انہی بلاووں کو اپنی نجات سمجھتا ہے
اور روح کے بلاوے
جسم کے دوست ہیں
لیکن جسم ان بلاووں سے ڈرتا ہے
سچ ہے کہ انسان خسارے میں ہے
علی ظہیر
No comments:
Post a Comment