Monday, 12 April 2021

اپنوں کے کرم سے یا قضا سے

 اپنوں کے کرم سے یا قضا سے

مر جائیں تو آپ کی بلا سے

گرتی رہی روز روز شبنم

مرتے رہے روز روز پیاسے

اے رہ زدگاں کہیں تو پہنچے

منہ موڑ گئے جو رہنما سے

پھر نیند اڑا کے جا رہے ہیں

تاروں کے یہ قافلے ندا سے

مڑ مڑ کے وہ دیکھنا کسی کا

نظروں میں وہ دور کے دلاسے

پلکوں کی ذرا ذرا سی لرزش

پیغام تِرے ذرا ذرا سے

داتا ہیں سبھی نظر کے آگے

کیا مانگیں چھپے ہوئے خدا سے

کیا ہاتھ اٹھائیے دعا کو

ہم ہاتھ اٹھا چکے دعا سے


عزیز قیسی

No comments:

Post a Comment