ہر آنکھ لہو ساگر ہے میاں ہر دل پتھر سناٹا ہے
یہ گنگا کس نے پاٹی ہے یہ پربت کس نے کاٹا ہے
چاہت نفرت، دنیا عقبیٰ، یہ خیر خرابی، درد دوا
ہر دھندہ جی کا جوکھم ہے ہر سودا جان کا گھاٹا ہے
کیا جوگ سمادھی و رسدھی کیا کشف و کرامت جذب و جنوں
یہ راس رنگ یہ میل ملن اک ہاتھ میں چاند اک میں سورج
اک رات کا موج مزہ، سارا اک دن کا سیر سپاٹا ہے
گھٹ گھاٹ اندھیرا ہے کیسے باندھوگے کہاں نیا اپنی
آواز کسے دو گے قیسیؔ؟ چودھام یہاں سناٹا ہے
عزیز قیسی
No comments:
Post a Comment