Thursday, 10 February 2022

پنجوں کے بل کھڑے ہوئے شب کی چٹان پر

 پنجوں کے بل کھڑے ہوئے شب کی چٹان پر

ناخن سے اک خراش لگا آسمان پر

برسوں درونِ سینہ سلگنا ہے پھر ہمیں

لگتا ہے قفلِ حبس ہوا کے مکان پر

اک دھاڑ ہے کہ چاروں طرف سے سنائی دے

گردابِ چشم بن گئیں آنکھیں مچان پر

موجود بھی کہیں نہ کہیں التواء میں ہے

جو ہے نشان پر وہ نہیں ہے نشان پر

اس میں کمال اس کی خبر سازیوں کا ہے

کھاتا ہوں میں فریب جو سچ کے گمان پر

سرکش کو نصف عمر کا ہو لینے دیجئے

بک جائے کا کسی نہ کسی کی دُکان پر


آفتاب اقبال شمیم

No comments:

Post a Comment