Thursday, 10 February 2022

دو گھڑی بیٹھے تھے زلف عنبریں کی چھاؤں میں

 دو گھڑی بیٹھے تھے زلف عنبریں کی چھاؤں میں

چبھ گیا کانٹا دل حسرت زدہ کے پاؤں میں

کم نہیں ہیں جب کہ شہروں میں بھی کچھ ویرانیاں

کس توقع پر کوئی جائے گا اب صحراؤں میں

کچی کلیاں پکی فصلیں سر چھپائیں گی کہاں

آگ شہروں کی لپک کر آ رہی ہے گاؤں میں

زخم نظارہ ہیں جسموں کی برہنہ ٹہنیاں

ایسے پت جھڑ میں کھلیں گے پھول کیا آشاؤں میں

کیا کہوں طول شب غم پل میں صدیاں ڈھل گئیں

وقت یوں گزرا کہ جیسے آبلے ہوں پاؤں میں

زندگی میں ایسی کچھ طغیانیاں آتی رہیں

بہہ گئیں ہیں عمر بھر کی نیکیاں دریاؤں میں

جلتے موسم میں کوئی فارغ نظر آتا نہیں

ڈوبتا جاتا ہے ہر اک پیڑ اپنی چھاؤں میں


فارغ بخاری

No comments:

Post a Comment