چہرے پہ بے کسی کا دھندلکا لیے ہوئے
بیٹھا ہوں درد آج بھی کل کا لیے ہوئے
تکمیل کیا کرے کوئی نظمِ حیات کی
ہر پل ہے انتشار غزل کا لیے ہوئے
تاریکیاں حدودِ مقدر تک آ گئیں
اٹھو زرا چراغ عمل کا لیے ہوئے
ہم غرق ہو گئے ہیں مصائب کی جھیل میں
تم سطح پر ہو روپ کنول کا لیے ہوئے
ڈر ہے کہ یادِ یار کی سسی بھٹک نہ جائے
یہ دِل ہے سارا سلسلہ تھل کا لیے ہوئے
تعمیر کر رہا ہوں جوانی کی یادگار
نقشہ نظر میں تاج محل کا لیے ہوئے
قاصر وفا کے پیڑ کا قصہ عجیب ہے
شاخیں کھڑی ہیں آسرا پھل کا لیے ہوئے
غلام محمد قاصر
No comments:
Post a Comment