Thursday, 10 February 2022

پس کار صبح فراق تھی جو شام ہجر سے آ ملی

 پسِ کارِ صبح فراق تھی جو شامِ ہجر سے آ ملی

یہ حیات یک دو نفس ملی، یہ اگر ملی بھی تو کیا ملی

نہ وہ سیلِ نکہت و نور تھا نہ ہجوم حور و قصور تھا

سرِ بزم صبح کو نوحہ گر، جو ملی تو صرف صبا ملی

یہ ستم ظریفئ وقت ہے،۔ یہ کرم نمائی بخت ہے

جسے زندگی کی ہوس نہ تھی اسے زندگی کی سزا ملی

وہ خیال و فکر کے سلسلے جو عمل کی راہ نہ پا سکے

انہیں آگہی سے بھی کیا ملا، نہ سزا ملی نہ جزا ملی

یہ عذاب تجھ پہ بھی کم نہیں یہ عذاب مجھ پہ بھی کم نہیں

نہ تجھی کو اجر جفا ملی، نہ مجھی کو داد وفا ملی

میرے محسنو! میرے قاتلوں کا کمال فن بھی تو دیکھیۓ

صف دشمناں میں بھی سرخرو، صف دوستاں میں بھی جا ملی

میں اُسی قبیلۂ کشتگاں کی صداقتوں کا امین ہوں

جسے لفظ لفظ سنا گیا، جسے حرف حرف سزا ملی


خالد علیگ

No comments:

Post a Comment