آشاؤں کا نم
تمہاری سرد مہری دیکھو کھا گئی ہمیں
تمہیں لگا بچھڑ کے نیند آ گئی ہمیں؟
ہمارے جاگنے کی رات شہر کیسے سو گیا
ابھی مہین شام تھی ابھی اَخیر ہو گیا
مسافروں نے راہ کے نشان تک مٹا دئیے
رہے سہے امید کے گمان تک مٹا دئیے
ہوا چلی تو بستیوں کے سب مکین کھا گئی
بڑے بڑے عظیم لوگ کیوں زمین کھا گئی
قدیم چیز کی طرف توجہ چھوڑ دی گئی
تو انہدام بڑھ گیا
کسی کو فرصتیں ملیں کسی کا کام بڑھ گیا
طویل رت جگا یہاں مکین کیسے ہو گیا
مہیب داستان کا امین کیسے ہو گیا
بھلا ہمیں تمہارا نام راس کس لیے نہیں
کوئی بتائے تم ہمارے پاس کس لیے نہیں
ابھی تو تم ہمارے چارہ ساز بھی نہیں ہوئے
ابھی ہمارے خواب وجہِ ناز بھی نہیں ہوئے
کسے کہیں ہم ایسے باز جلد باز بھی نہیں ہوئے
اسے کہو کہانیوں کی سازشیں نہیں گھڑے
حنوط ہورہے ہیں ہم سرِ طلب پڑے پڑے
خدا ہماری وسعتیں نہ آزمائے اس قدر
نحیف ہو رہے ہیں انتظار میں کھڑے کھڑے
ہمارے خواب میں رہے ہماری بات میں رہے
اسے تو چاہیۓ کہ وہ ہمارے ساتھ میں رہے
سرک رہا ہے مٹھیوں سے ریت کی طرح کوئی
اسے کوئی کہے کہ وہ ہمارے ہاتھ میں رہے
حنا عنبرین
No comments:
Post a Comment