Thursday, 10 February 2022

ابھی تک کچھ نہیں بدلا

 ابھی تک کچھ نہیں بدلا

جہاں پر تم نے چھوڑا تھا

وہیں موجود ہوں شاید بہت محدود ہوں

دیکھو ابھی تک کچھ نہیں بدلا

مِرے بستر پہ وہی رات تکیے سے لپٹ کر رو رہی ہے

جس کا ہم نے ’وصل کی شب‘ نام رکھا تھا

مِرے کمرے کی اک دیوار پہ تصویر میں وہ شام کا منظر

تمہاری یاد میں ڈوبا ہی رہتا ہے

اذیت سے بھرا اک دُکھ

ابھی تک میز پر رکھے ہوئے کاغذ کے ٹکڑے پر پڑا ہے

جو محبت کے کسی بھی آخری جملے میں ہوتا ہے

محبت اور نفرت کا ہر اک لمحہ مِرے سینے میں رکھا ہے

نہ جانے جرم کیا ہے اور کیسی قید ہے جس میں

میں اپنے جسم کا ہر ایک حصہ قید پاتا ہوں

چلوں تو پاؤں میں وعدوں کی زنجیریں کھنکتی ہیں

تمہاری راہ تکتی ہیں

کہیں بھی جا نہیں سکتا

جہاں پر تم نے چھوڑا تھا

وہیں موجود ہوں شاید بہت محدود ہوں

دیکھو ابھی تک کچھ نہیں بدلا


عاطف سعید

No comments:

Post a Comment