گمنام جوڑوں کے نام
ہمارے جانے کے بعد بچوں نے
ہماری شادی کی تصویر
دیوار سے اُتار دی ہے
تمہارے سارے میگزین
اور میری ساری کتابیں
پڑوسی ردی والے نے
بوجھل من سے خریدے ہیں
رات جب ہماری قبروں پر
کتبہ لگانے کی بات چلی
بہو نے بڑے بیٹے کو ٹوکا
کیا سب کچھ تم ہی کرو گے
میری صابر رفیقِ حیات
تم بالکل پریشان مت ہونا
ہمارے اس قبرستان میں
سینکڑوں بے نام قبریں ہیں
تم یہاں ہرگز گمنام نہیں ہو
میں جو تمہارے ساتھ ہوں
صفی سرحدی
No comments:
Post a Comment