غم بڑھے آتے ہیں قاتل کی نگاہوں کی طرح
تم چھپا لو مجھے اے دوست گناہوں کی طرح
اپنی نظروں میں گنہ گار نہ ہوتے کیوں کر
دل ہی دشمن ہے مخالف کے گواہوں کی طرح
ہر طرف زیست کی راہوں میں کڑی دھوپ ہے دوست
جن کی خاطر کبھی الزام اٹھائے فاکرؔ
وہ بھی پیش آئے ہیں انصاف کے شاہوں کی طرح
سدرشن فاکر
No comments:
Post a Comment