پتھر کے خدا پتھر کے صنم پتھر کے ہی انساں پائے ہیں
تم شہرِ محبت کہتے ہو، ہم جان بچا کر آئے ہیں
بت خانہ سمجھتے ہو جس کو، پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے
ہم لوگ وہیں سے لوٹے ہیں، بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں
ہم سوچ رہے ہیں مدت سے، اب عمر گزاریں بھی تو کہاں
ہونٹوں پہ تبسم ہلکا سا، آنکھوں میں بھی نمی سی
ہم اہلِ محبت پر اکثر، ایسے بھی زمانے آئے ہیں
سدرشن فاکر
No comments:
Post a Comment