Wednesday, 6 January 2016

کچھ تو دنیا کی عنایت نے دل توڑ دیا

کچھ تو دنیا کی عنایت نے دل توڑ دیا 
اور کچھ تلخئ حالات نے دل توڑ دیا 
ہم تو سمجھے تھے کے برسات میں برسے گی شراب 
آئی برسات تو برسات نے دل توڑ دیا 
دل تو روتا رہے اور آنکھ سے آنسو نہ بہیں 
عشق کی ایسی روایت نے دل توڑ دیا 
وہ میرے ہیں، مجھے مل جائیں گے آ جائیں گے 
ایسے بے کار خیالات نے دل توڑ دیا 
آپ کو پیار ہے مجھ سے کہ نہیں ہے مجھ سے
جانے کیوں ایسے سوالات نے دل توڑ دیا 

سدرشن فاکر 

No comments:

Post a Comment