شاید میں زندگی کی سحر لے کے آ گیا
قاتل کو آج اپنے ہی گھر لے کے آ گیا
تا عمر ڈھونڈتا رہا منزل میں عشق کی
انجام یہ کہ گردِ سفر لے کے آ گیا
نشتر ہے میرے ہاتھ میں کاندھوں پہ میکدہ
فاکرؔ صنم کدے میں نہ آتا میں لوٹ کر
ایک زخم بھر گیا تھا، اِدھر لے کے آ گیا
سدرشن فاکر
No comments:
Post a Comment