برگد کی چھاؤں میں بیٹھا اک بے نام فقیر
اپنے سر لے لیتا ہے ہر اک الزام فقیر
سوچ نگر میں گلیوں گلیوں گھومے وہ دن رات
چِنتا کے ساگر میں ڈوبا صبح و شام فقیر
سوچ سمندر میں جب اُترے موتی ڈھونڈ کے لائے
رکھتا ہے پیاسوں کی خاطر بھر کے جام فقیر
لوگوں کے دُکھ سہہ کر بھی وہ سُکھ کی دولت دے
خیر رہے‘ کی بولی بولے سُن دُشنام فقیر’
چلتے چلتے راہ کے سارے کانٹے چُنتا جائے
پُھول بچھاتا جائے ثاقب ہر ہر گام فقیر
منظور ثاقب
No comments:
Post a Comment