Monday, 6 September 2021

برگد کی چھاؤں میں بیٹھا اک بے نام فقیر

 برگد کی چھاؤں میں بیٹھا اک بے نام فقیر

اپنے سر لے لیتا ہے ہر اک الزام فقیر

سوچ نگر میں گلیوں گلیوں گھومے وہ دن رات

چِنتا کے ساگر میں ڈوبا صبح و شام فقیر

سوچ سمندر میں جب اُترے موتی ڈھونڈ کے لائے

رکھتا ہے پیاسوں کی خاطر بھر کے جام فقیر

لوگوں کے دُکھ سہہ کر بھی وہ سُکھ کی دولت دے

خیر رہے‘ کی بولی بولے سُن دُشنام فقیر’

چلتے چلتے راہ کے سارے کانٹے چُنتا جائے

پُھول بچھاتا جائے ثاقب ہر ہر گام فقیر


منظور ثاقب

No comments:

Post a Comment