Monday, 6 September 2021

مری آنکھوں میں کبھی جھانک کے دیکھا نہ کرو

مِری آنکھوں میں کبھی جھانک کے دیکھا نہ کرو

باتوں باتوں میں مجھے ایسے کُریدا نہ کرو

مانا، جذبوں کی تمہیں قدر نہیں ہے پھر بھی

پھول جیسے مِرے جذبات ہیں، کُچلا نہ کرو

مجھ سے نفرت کرو تقسیم جو کرنا ہو مجھے

مجھ کو میزانِ محبت سے تو مِنہا نہ کرو

تم کو چاہت نہیں منظور جو میری، نہ سہی

میرے پِندارِ محبت کو تو رُسوا نہ کرو

دل میں جو بات ہے لے آؤ زباں پر اپنی

روز مجھ کو نئے انداز سے پرکھا نہ کرو

چاہتے ہو یہ اگر تم کو زمانہ چاہے

خود میں رہتے ہوئے خود کو کبھی تنہا نہ کرو

نہ ملو مجھ سے مگر اپنی انا کی خاطر

مِری چاہت مِرے اِخلاص کا سودا نہ کرو

پھول کِھلتے ہی مزاروں کے لیے ہیں عارف

لے کے ہاتھوں میں اِنہیں اِس طرح مَسلا نہ کرو


محمد عارف

No comments:

Post a Comment