ابھی سارے منظر سہانے بہت ہیں
وفا میں ابھی موڑ آنے بہت ہیں
سُلگتی جُھلستی ہوئی زندگی میں
تِری یاد کے شامیانے بہت ہیں
میسر ہوئی جب سے دستار مجھ کو
مِرے سر کی جانب نشانے بہت ہیں
تِرے در سے اٹھنا گوارا نہیں ہے
وگرنہ ہمارے ٹھکانے بہت ہیں
جمیل اب یہاں سچ کی قیمت نہیں ہے
یہاں جھوٹ کے کارخانے بہت ہیں
جمیل احمد جمیل
No comments:
Post a Comment