حصار عشق سے نکلا ہوں میں کہاں اب تک
کہ چاند ہے مِری وحشت کا امتحاں اب تک
گزر رہے ہیں مہ و سال اور میں اپنی جگہ
کھڑا ہوں ہونے نہ ہونے کے درمیاں اب تک
کسک تو خیر گئے موسموں کی نظر ہوئی
مگر ہے اپنی جگہ زخم کا نشاں اب تک
یہ کیسا جشنِ چراغاں تھا رات بستی میں
مِرے مکان سے نکلا نہیں دھواں اب تک
وہ میں تھا یا کوئی ٹوٹا ہوا ستارہ تھا
یہ کس سے محوِ تکلم تھا آسماں اب تک
دِیا بجھے تو سمجھ لو کہ بام و در بھی گئے
کہ آندھیوں کے مقابل ہے اک مقاں اب تک
میں رتگجوں کا مسافر اسی کے دھیان میں ہوں
وہ ماہتاب ہے رقصاں پسِ گماں اب تک
خالد معین
No comments:
Post a Comment