Wednesday, 5 May 2021

دل تجھے پا کے بھی تنہا ہوتا

 دل تجھے پا کے بھی تنہا ہوتا

دور تک ہجر کا سایا ہوتا

اور تو اپنے لیے کیا ہوتا

اپنا دُکھ ہی کوئی اپنا ہوتا

آپ آتے کہ نہ آتے دل میں

جلتا بُجھتا کوئی شعلہ ہوتا

آرزو پھر نئی کرتے تعبیر

پھر نیا کوئی تماشا ہوتا

پھر وہی ایک خلش سی ہوتی

پھر کسی نے ہمیں دیکھا ہوتا

زخم پھر کوئی مہکتا دل میں

سامنے پھر کوئی چہرہ ہوتا

پھر گلے وحشتیں ملتیں ہم سے

پھر وہی ہم وہی صحرا ہوتا

تھے خفا تم تو ہمارا دمساز

آفتِ جاں کوئی تم سا ہوتا

تجھ کو نفرت ہے تو اپنا دل بھی

رفتہ رفتہ تجھے بھُولا ہوتا

تھک کے سویا ہے جو اب رات گئے

شام ہوتے اسے دیکھا ہوتا


احمد ہمدانی

No comments:

Post a Comment