دل نے اس دھار پہ کٹنا چاہا
میں نے دریا سے لِپٹنا چاہا
جب میرے ہاتھ سے وہ بہہ نکلا
میں نے یک بار لپک کر اس پر
سرِ مہتاب ہے وہ طاس جہاں
دل بچھڑتے ہیں جدا ہوتے ہیں
میں نے پتھر کو پکڑنا چاہا
اور وہ ڈُوب گیا دریا میں
میرے ہاتھوں میں بھنور بھر آیا
چاند نے آ کے مجھے چھُڑوایا
میں نے ہر جلوۂ رم خوردہ کو
اپنے ہاتھوں میں جکڑنا چاہا
تم نے پھیلائے تھے بازو اپنے
جیسے اک صبح شناسائے طرب
ایک خاموش حریری پَل میں
ایسے ساحل سے جہاں خواب ابھی
واقعہ ہونے نہیں پائے ہیں
جمشید مسرور
No comments:
Post a Comment