یوں تو ہر سمت صداؤں کا جہاں بولتا ہے
پر جسے ہم نے پکارا وہ کہاں بولتا ہے
مامتا پھول سی کھل اٹھتی ہے اس روز کہ جب
اس کا بچہ اسے پہلی دفعہ ماں بولتا ہے
کچھ خبر لو کہ مِرے شہر پہ کیا گزری ہے
گل بداماں نہ کوئی شعلہ بجاں بولتا ہے
کیسے صدمات کا مارا ہوا وہ شخص ہے جو
عام سی بات بہ اندازِ فغاں بولتا ہے
دامِ خوشبو میں جو رہتا تھا کبھی ہنستا ہوا
آج سنتے ہیں وہ اشکوں کی زباں بولتا ہے
جب کبھی بانٹنے لگتا ہے نئے موسم وہ
کیوں کسی نام پہ ہر بار خزاں بولتا ہے
نورین طلعت عروبہ
No comments:
Post a Comment