یہ کس سے کہئے کہ خوابوں کے ساتھ گزری ہے
یہ زندگی جو کتابوں کے ساتھ گزری ہے
نظر نے اس کو چھوا بھی تو فاصلے رکھ کر
وہ موجِ گل جو حبابوں کے ساتھ گزری ہے
یہ حوصلہ بھی کہاں، آئینہ وہ دیکھ سکیں
یہاں تو دار و رسن ساتھ تھے چراغوں کے
یہ راہ کتنے عذابوں کے ساتھ گزری ہے
کبھی نہ ٹوٹ سکا، دل کے آبلوں کا طلسم
حیات یوں تو خرابوں کے ساتھ گزری ہے
لہو کے پھول تو صحرا میں کھل گئے تنویر
یہی تو ہے کہ سرابوں کے ساتھ گزری ہے
تنویر احمد علوی
No comments:
Post a Comment