Tuesday, 25 August 2020

منزل ملے ملے نہ ملے راستہ ملے

منزل ملے، ملے نہ ملے، راستہ ملے
اس دشتِ آرزو میں کوئی نقشِ پا ملے
جب سوچ بھی بدل گئی لفظوں کے ساتھ ساتھ
ممکن نہ تھا کہ اپنا کوئی ہمنوا ملے
یہ اور بات ہے وہ چراغِ🪔 وفا نہ ہو
شعلہ ہی کوئی اب مِرے قدموں سے آ ملے
یہ قربتیں، اور ان پہ یہ سنگین دوریاں
شاید ہی اس سے بڑھ کے کوئی فاصلہ ملے
ہم خود کو چھوڑ کر تو بہت دور آ گئے
اب تُو نہیں تو کون تِرا ہم ادا ملے
اپنوں میں ہم صلیب جو بنتا، وہ کون تھا
یوں کشتۂ ستم تو سبھی بے خطا ملے
تنویر ہم بدل نہ سکے زندگی کے ساتھ
اب یہ فضول بات ہے، سب بیوفا ملے

تنویر احمد علوی

No comments:

Post a Comment