Thursday, 16 September 2021

کمند حلقۂ گفتار توڑ دی میں نے

 کمندِ حلقۂ گُفتار توڑ دی میں نے

کہ مہرِ دستِ قلمکار توڑ دی میں نے

روایتوں کو صلیبوں سے کر دیا آزاد

یہی رسن تو سرِ دار توڑ دی میں نے

یہ میرے ہاتھ ہیں اور بے شناخت اب بھی نہیں

یہ اور بات ہے، تلوار توڑ دی میں نے

سفینے ہی کو میں شعلہ دِکھا کے نکلا تھا

جو اپنے ہاتھ سے پتوار توڑ دی میں نے

تحکمانہ ادا، اور فیصلے دل کے

کمانِ ابروئے خمدار توڑ دی میں نے

وہ دائروں سے جو باہر نہ آ سکے تنویر

وہ رسمِ گردشِ پرکار توڑ دی میں نے


تنویر احمد علوی

No comments:

Post a Comment