Thursday, 1 April 2021

آنکھوں سے محبت کے اشارے نکل آئے

 آنکھوں سے محبت کے اشارے نکل آئے

برسات کے موسم میں ستارے نکل آئے

تھا تجھ سے بچھڑ جانے کا احساس مگر اب

جینے کے لیے اور سہارے نکل آئے

میں نے تو یونہی ذکرِ وفا چھیڑ دیا تھا

بے ساختہ کیوں اشک تمہارے نکل آئے

جب میں نے سفینے میں تِرا نام لیا ہے

طوفان کی باہوں سے کنارے نکل آئے

ہم جاں تو بچا لاتے مگر اپنا مقدر

اس بھیڑ میں کچھ دوست ہمارے نکل آئے

جگنو انہیں سمجھا تھا مگر کیا کہوں منصور

مُٹھی کو جو کھولا تو شرارے نکل آئے


منصور عثمانی

No comments:

Post a Comment