آوارگی نے دل کی عجب کام کر دیا
خوابوں کو بوجھ نیندوں کو الزام کر دیا
کچھ آنسو اپنے پیار کی پہچان بن گئے
کچھ آنسوؤں نے پیار کو بدنام کر دیا
جس کو بچائے رکھنے میں اجداد بِک گئے
ہم نے اسی حویلی کو نیلام کر دیا
دل کو بچا کے رکھا تھا دنیا سے آج تک
لے آج ہم نے یہ بھی تِرے نام کر دیا
تم نے نظر جھُکا کے جہاں بات کاٹ دی
ہم نے وہیں فسانے کا انجام کر دیا
منصور عثمانی
No comments:
Post a Comment