Sunday, 21 March 2021

آوارگی نے دل کی عجب کام کر دیا

 آوارگی نے دل کی عجب کام کر دیا

خوابوں کو بوجھ نیندوں کو الزام کر دیا

کچھ آنسو اپنے پیار کی پہچان بن گئے

کچھ آنسوؤں نے پیار کو بدنام کر دیا

جس کو بچائے رکھنے میں اجداد بِک گئے

ہم نے اسی حویلی کو نیلام کر دیا

دل کو بچا کے رکھا تھا دنیا سے آج تک

لے آج ہم نے یہ بھی تِرے نام کر دیا

تم نے نظر جھُکا کے جہاں بات کاٹ دی

ہم نے وہیں فسانے کا انجام کر دیا


منصور عثمانی

No comments:

Post a Comment