Monday, 17 August 2020

کہاں کوئی جو زباں بھی جگر بھی رکھتا ہو

کہاں کوئی جو زباں بھی جگر بھی رکھتا ہو
پھر اپنے ہاتھ بھی گردن بھی سر بھی رکھتا ہو
خموش ہونٹ بھی عرضِ ہنر بھی رکھتا ہو
تغیرات پہ گہری 👀نظر بھی رکھتا ہو
کئی امیدیں بجھاتا ہو ایک جنبش میں
کئی چراغ🪔 سرِ رہگزر بھی رکھتا ہو
لہو میں پلتی ہوں آزادیاں بھی اس کے، مگر
قفس میں خوش بھی ہو اور بال و پَر بھی رکھتا ہو
کبھی تو ہجر کے محور میں قید ہو جائے
کبھی وصال کا لمبا سفر بھی رکھتا ہو
سفر کا شوق بھی رکھتا ہو اپنے سینے میں
عذابِ ہم سفری سے مفر بھی رکھتا ہو

شہپر رسول

No comments:

Post a Comment