کہاں کوئی جو زباں بھی جگر بھی رکھتا ہو
پھر اپنے ہاتھ بھی گردن بھی سر بھی رکھتا ہو
خموش ہونٹ بھی عرضِ ہنر بھی رکھتا ہو
تغیرات پہ گہری 👀نظر بھی رکھتا ہو
کئی امیدیں بجھاتا ہو ایک جنبش میں
لہو میں پلتی ہوں آزادیاں بھی اس کے، مگر
قفس میں خوش بھی ہو اور بال و پَر بھی رکھتا ہو
کبھی تو ہجر کے محور میں قید ہو جائے
کبھی وصال کا لمبا سفر بھی رکھتا ہو
سفر کا شوق بھی رکھتا ہو اپنے سینے میں
عذابِ ہم سفری سے مفر بھی رکھتا ہو
شہپر رسول
No comments:
Post a Comment