نہ آنکھ اٹھی کسی لفظِ بے ضرر کی طرف
نہ سنگ آئے کبھی شاخِ بے ثمر کی طرف
مجھے بھی لمحۂ ہجرت نے کر دیا تقسیم
نگاہ گھر کی طرف ہے، قدم سفر کی طرف
اِس ایک وہم میں چپ چپ ہیں سُوکھتی شاخیں
⽹چلی ہی آئی بالآخر کئی ارادوں سے⽹
خبر حصار لیے مجھ سے بے خبر کی طرف
یہ معجزہ ہے کہ سینے میں💘 تیر بیٹھ گیا
اگرچہ اس کا نشانہ تھا میرے سر کی طرف
شہپر رسول
No comments:
Post a Comment