کِنارِ شوق میں اک پردۂ حجاب رہا
وہ التفات مِرے واسطے سراب رہا
اگرچہ وجہِ تعلق ضرور تھی، لیکن
بیانِ کیفیتِ دل سے اجتناب رہا
ادائے حسن میں اسرارِ تمکنت از خود
میں کر سکا نہ اسے اپنی بات سے قائل
بھلے یہ تجرِبہ اوروں پہ کامیاب رہا
خلافِ آئینِ تمہیدِ عشق میں اکثر
نبرد آزما 🗡ہونا بڑا عذاب رہا
سپردگئ تمنا میں حرفِ شرط سہی
سدا یہ اہلِ جنوں پر کھلی کتاب رہا
حسابِ دوستی رکھنا بڑا ہی مشکل ہے
حصولِ کارِ طلب، زیرِ اِکتساب رہا
سرورِ وصل ہے خُم خانۂ محبت میں
مگر وہ نشۂ نظرے، بجز شراب رہا
گزر کے موسمِ عمرِ رواں کی منزل سے
شرارۂ رہِ ہستی کِھلا گلاب🌹 رہا
چھپائے پھرتے ہو وہ درد کس لیے اطہر
جو زخم بن کے زمانے میں بے نقاب رہا
سلمان اطہر
No comments:
Post a Comment