یہ کہانی عجیب ہے شاید
اصل سے جو قریب ہے شاید
جسکی عِصمت دری کے چرچے ہیں
کوئی لڑکی غریب ہے شاید
میرے شانوں پہ تیرا دستِ کرم
"کس سے پوچھوں تِری گلی کا پتا"
ہر کوئی یاں رقیب ہے شاید
رات سے ہے گلی میں ہنگامہ
مولوی یا خطیب ہے شاید؟
ہم سخنور سے جو رہے بدنام
اپنا اپنا نصیب ہے شاید
سلمان اطہر
No comments:
Post a Comment