Monday, 17 August 2020

یہ کہانی عجیب ہے شاید

یہ کہانی عجیب ہے شاید
اصل سے جو قریب ہے شاید
جسکی عِصمت دری کے چرچے ہیں
کوئی لڑکی غریب ہے شاید
میرے شانوں پہ تیرا دستِ کرم 
کافی بھاری صلیب ہے شاید
"کس سے پوچھوں تِری گلی کا پتا"
ہر کوئی یاں رقیب ہے شاید
رات سے ہے گلی میں ہنگامہ
مولوی یا خطیب ہے شاید؟
ہم سخنور سے جو رہے بدنام
اپنا اپنا نصیب ہے شاید

سلمان اطہر

No comments:

Post a Comment