خوش یقینی میں یوں خلل آیا
کچھ نکلنا تھا، کچھ نکل آیا
سر سرِ خشک پانی پانی ہوئی
جل بجھی شاخ پر جو پھل آیا
میں نے بھی دیکھنے کی حد کر دی
آج کل آج کل میں ڈھلتے رہے
آج آیا،۔ نہ کوئی کل آیا
خود سے لڑتے رہے الجھتے رہے
صبر آیا، کہ حل نکل آیا
مجھ کو تسخیر کرنا تھا شہپر
مجھ سے آگے وہ کیوں نکل آیا
شہپر رسول
No comments:
Post a Comment