Friday, 14 August 2020

شکل بھی بھلی پائی دل بھی آئینہ پایا

پھیلتا خموشی میں نقطۂ صدا پایا
اک سفید صفحے سے لفظ کا پتا پایا
تم سا اس زمانے میں کس نے معجزہ پایا
شکل بھی بھلی پائی، دل بھی آئینہ پایا
فکر تھی بلند اپنی اور قدم خلا میں تھے
جب زمیں پر آئے تب ہم نے راستہ پایا
بس شکایتوں پر ہی دوستی رہی قائم
وہ بھی کتنا آ پائے، میں بھی کتنا جا پایا
شوق اور خواہش کا امتیاز تو دیکھو
اک رکا ہے منزل پر، اک نے راستہ پایا
یہ تضاد بھی شہپر زندگی نے دیکھا ہے
چال میں انا دیکھی، سر جھکا ہوا پایا

شہپر رسول

No comments:

Post a Comment