پھیلتا خموشی میں نقطۂ صدا پایا
اک سفید صفحے سے لفظ کا پتا پایا
تم سا اس زمانے میں کس نے معجزہ پایا
شکل بھی بھلی پائی، دل بھی آئینہ پایا
فکر تھی بلند اپنی اور قدم خلا میں تھے
بس شکایتوں پر ہی دوستی رہی قائم
وہ بھی کتنا آ پائے، میں بھی کتنا جا پایا
شوق اور خواہش کا امتیاز تو دیکھو
اک رکا ہے منزل پر، اک نے راستہ پایا
یہ تضاد بھی شہپر زندگی نے دیکھا ہے
چال میں انا دیکھی، سر جھکا ہوا پایا
شہپر رسول
No comments:
Post a Comment