Friday, 14 August 2020

جو لوگ اپنے حق کے طلب گار بن گئے

جو لوگ اپنے حق کے طلبگار بن گئے
اہلِ ستم کی راہ میں دیوار بن گئے
صد شکر اپنے دل کو تِرا غم ہوا نصیب
ہم تجھ سے مل کے صاحبِ کردار بن گئے
جب سیلِ درد دل میں ہوا موجزن تو ہم
اظہارِ درد کے لیے فن کار بن گئے
گزرے تو اک جہان کی نظروں میں آ گئے
ٹھہرے تو رونقِ رسن و دار بن گئے
ہم چاہتوں کے زخم چھپائے پھرے صبا
یہ زخم دل کے واسطے آزار بن گئے

سبط علی صبا

No comments:

Post a Comment