جو لوگ اپنے حق کے طلبگار بن گئے
اہلِ ستم کی راہ میں دیوار بن گئے
صد شکر اپنے دل کو تِرا غم ہوا نصیب
ہم تجھ سے مل کے صاحبِ کردار بن گئے
جب سیلِ درد دل میں ہوا موجزن تو ہم
اظہارِ درد کے لیے فن کار بن گئے
گزرے تو اک جہان کی نظروں میں آ گئے
ٹھہرے تو رونقِ رسن و دار بن گئے
ہم چاہتوں کے زخم چھپائے پھرے صبا
یہ زخم دل کے واسطے آزار بن گئے
سبط علی صبا
اہلِ ستم کی راہ میں دیوار بن گئے
صد شکر اپنے دل کو تِرا غم ہوا نصیب
ہم تجھ سے مل کے صاحبِ کردار بن گئے
جب سیلِ درد دل میں ہوا موجزن تو ہم
اظہارِ درد کے لیے فن کار بن گئے
گزرے تو اک جہان کی نظروں میں آ گئے
ٹھہرے تو رونقِ رسن و دار بن گئے
ہم چاہتوں کے زخم چھپائے پھرے صبا
یہ زخم دل کے واسطے آزار بن گئے
سبط علی صبا
No comments:
Post a Comment