Friday, 14 August 2020

شب وصل کی بھی چین سے کیوں کر بسر کریں

 شب وصل کی بھی چین سے کیونکر بسر کریں​

جب یوں نگاہبانئ مرغِ سحر کریں​

محفل میں اک نگاہ اگر وہ ادھر کریں​

سو سو اشارے غیر سے پھر رات بھر کریں​

طوفانِ نوح لانے سے اے چشم فائدہ؟​

دو اشک بھی بہت ہیں، اگر کچھ اثر کریں

​آز و ہوس سے خلق ہوا ہے یہ نامراد​

دل پر نگاہ کیا ہے، وہ مجھ پر نظر کریں​

کچھ اب کے ہم سے بولے تو یہ جی میں ہے کہ پھر​

ناصح کو بھی رقیب سے آزردہ تر کریں​

واں ہے وہ نغمہ جس سے کہ حوروں کے ہوش جائیں​

یاں ہے وہ نالہ جس سے فرشتے حذر کریں​

اہلِ زمانہ دیکھتے ہیں عیب ہی کو بس​

کیا فائدہ جو شیفتہ عرضِ ہنر کریں​

مصطفیٰ خان شیفتہ

No comments:

Post a Comment