عجیب طرز کا اس بار استخارا ہوا
نہ ہم کسی کے ہوئے ہیں نہ وہ ہمارا ہوا
یہ میرا جسم بھی جیسے کسی کی اترن ہو
کٹا پھٹا سا بہت، رنگ تک اتارا ہوا
ہماری بھیک تھی، پیشہ وروں کو دے دی گئی
تو کیوں نہ مڑ کے میں دیکھوں خود اپنی جانب ہی
مجھے سنائی دیا ہے،۔ میرا پکارا ہوا
وہ کیا جیے کہ جسے جی کے سو مسائل ہوں
وہ کیا مرے کہ جسے عشق نے ہو مارا ہوا
نئے سرے سے پرانے غموں کا سامنا ہے
گزارنا ہے ہمیں وقت پھر گزارا ہوا
آزاد حسین آزاد
No comments:
Post a Comment