دور تک دھند، دھواں ہے سب کچھ
وہ جو سب کچھ تھا، کہاں ہے سب کچھ
اک جہاں، بس یہ جہاں، بس یہ جہاں
واقعی، کیا یہ جہاں ہے سب کچھ؟
پیش معنی ہیں بلا کے اسرار
شعر میں فکر بھی ہوتی تھی کبھی
اب فقط حسنِ بیاں ہے سب کچھ
اپنی روداد بھی اپنی کہاں ہے؟
قصۂ ہم سفراں ہے سب کچھ
جیسے اب حال میں کچھ ہے ہی نہیں
جیسے ماضی میں نہاں ہے سب کچھ
سادگی سحر ہے،۔ لیکن شہپر
اتنا آسان کہاں ہے سب کچھ
شہپر رسول
No comments:
Post a Comment