گلوں سے بات بھی کب عطر بیز کرتا ہے
غرور اتنا کہ خود سے گریز کرتا ہے
تِری گلی سے گزرنا محال ہو گیا ہے
تمام شہر مِرے "ایکسریز" کرتا ہے
فلک بھی پھر تو مجھے چار کوس دِکھتا ہے
ہے عشق یوں بھی تو حرکت کا تیسرا قانون
وہ اور بھاتا ہے، جتنا "گریز" کرتا ہے
تمہارا حسن مِری جان! حسن ہے مانا
مگر جو کام تمہارا "جہیز" کرتا ہے
آزاد حسین آزاد
No comments:
Post a Comment