Saturday, 15 August 2020

گلوں سے بات بھی کب عطر بیز کرتا ہے

گلوں سے بات بھی کب عطر بیز کرتا ہے 
غرور اتنا کہ خود سے گریز کرتا ہے 
تِری گلی سے گزرنا محال ہو گیا ہے 
تمام شہر مِرے "ایکسریز" کرتا ہے 
فلک بھی پھر تو مجھے چار کوس دِکھتا ہے
وہ مین روڈ پہ جب کار تیز کرتا ہے 
ہے عشق یوں بھی تو حرکت کا تیسرا قانون 
وہ اور بھاتا ہے، جتنا "گریز" کرتا ہے 
تمہارا حسن مِری جان! حسن ہے مانا
مگر جو کام تمہارا "جہیز" کرتا ہے 

آزاد حسین آزاد

No comments:

Post a Comment