Saturday, 15 August 2020

نئے وجود نئی عورتوں سے عشق کیا

نئے وجود نئی عورتوں سے عشق کیا
تمہارے بعد کئی عورتوں سے عشق کیا
رہیں جو ساتھ، ترستی رہیں محبت کو
کہ ہم نے صرف 'گئی عورتوں' سے عشق کیا
کسی کے ہجر میں خود کو سہارا ایسے دیا
کہ آ گئے دبئی، عورتوں سے عشق کیا
تِرے فریب کی تاریخ ہم نہیں بھولے
جب آیا سترہ مئی عورتوں سے عشق کیا
رہیں وجود کی چکناہٹیں سدا قائم
بلویا جسم، رئی عورتوں سے عشق کیا
طلسم گاہِ محبت میں ہم رہے مشہور
کہ ہم نے غیر مرئی عورتوں سے عشق کیا

آزاد حسین آزاد

No comments:

Post a Comment