نئے وجود نئی عورتوں سے عشق کیا
تمہارے بعد کئی عورتوں سے عشق کیا
رہیں جو ساتھ، ترستی رہیں محبت کو
کہ ہم نے صرف 'گئی عورتوں' سے عشق کیا
کسی کے ہجر میں خود کو سہارا ایسے دیا
تِرے فریب کی تاریخ ہم نہیں بھولے
جب آیا سترہ مئی عورتوں سے عشق کیا
رہیں وجود کی چکناہٹیں سدا قائم
بلویا جسم، رئی عورتوں سے عشق کیا
طلسم گاہِ محبت میں ہم رہے مشہور
کہ ہم نے غیر مرئی عورتوں سے عشق کیا
آزاد حسین آزاد
No comments:
Post a Comment