Tuesday, 18 August 2020

بد دعا اس نے مجھے دی تھی دعا دی میں نے

بد دعا اس نے مجھے دی تھی دعا دی میں نے
اس نے دیوار اٹھائی تھی، گرا دی میں نے
خانۂ خواب سے نکلا تھا، مگر وحشت میں
پھر سے زنجیرِ درِ خواب ہلا دی میں نے
شہر سے میرے تعلق کا سبب پوچھا گیا
سادگی میں تِری تصویر بنا دی میں نے
چاندنی آۓ اسے نور میں نہلا ڈالے
پھر دریچے میں کوئی یاد سجا دی میں نے
اس نے سیلاب کی تصویر بنا بھیجی تھی
اسی کاغذ سے مگر ناؤ بنا دی میں نے

شہپر رسول

No comments:

Post a Comment