اپنے منظر کو میں منظر میں اگر لا سکتا
پھر یہ نظارہ بھی تصویر نہ کھچوا سکتا
سامنے رکھتا ہر اک پل میں کسی کی آنکھیں
اپنی آنکھوں کو اگر تحفہ دیا جا سکتا
ایسا اک وقت مِری آنکھ نے ایجاد کیا
اس کو تو روک نہیں سکتا مگر سوچتا ہوں
میں سٹیشن پہ کھڑی ریل ہی رکوا سکتا
آسماں والے تجھے سارا پتہ ہے میرا
ایسی باتوں پہ میں ایمان نہیں لا سکتا
ایک چوکی پہ سپاہی کے علاوہ ہے سڑک
آخری پیگ اگر پھر سے پیا جا سکتا
ہر محبت میں یہ دو عشق ضروری ہوتے
ایک کرتا میں اگر، ایک تُو کروا سکتا
فیضان ہاشمی
No comments:
Post a Comment