اپنے خلا میں لا کے یہ تم کو دکھا رہا ہوں میں
وہ جو خلا نورد ہیں ان کے لیے خلا ہوں میں
عشق ہوا نہیں مجھے، عشق کو ہو گیا ہوں میں
اتنا نہیں بچا ہوا،۔ جتنا پڑا ہوا ہوں میں
مٹی یہاں کی ٹھیک ہے مٹی سے کچھ گِلا نہیں
بھیس دِیے کا دھار کر تیری دعا سنوار کر
بیچ میں طاقچہ ہے اور دونوں طرف کھڑا ہوں میں
روح ملی ہے یا نہیں؟۔ اتنا میں جانتا نہیں
تیرے سے ایک جسم کو پہلے بھی مل چکا ہوں میں
فیضان ہاشمی
No comments:
Post a Comment