Tuesday, 13 December 2016

جس دن سے کوئی خواہش دنیا نہیں رکھتا

جس دن سے کوئی خواہش دنیا نہیں رکھتا
میں دل میں کسی بات کا کھٹکا نہیں رکھتا
مجھ میں ہے یہی عیب کہ اوروں کی طرح میں
چہرے پہ کبھی دوسرا چہرا نہیں رکھتا
کیوں قتل مجھے کر کے ڈبوتے ہو ندی میں
دو دن بھی کسی لاش کو دریا نہیں رکھتا
کیوں مجھ کو لہو دینے پہ تم لوگ بضد ہو
میں سر پہ کسی شخص کا قرضا نہیں رکھتا
احباب تو احباب ہیں دشمن کے تئیں بھی
کم ظرف زمانے کا رویہ نہیں رکھتا
یہ سچ ہے کہ میں غالبؔ ثانی نہیں لیکن
یاران معاصر کا بھی لہجہ نہیں رکھتا
بادل تو فراغؔ اصل میں ہوتا ہے وہ بادل
جو پیاس کے صحرا کو بھی پیاسا نہیں رکھتا

فراغ روہوی

No comments:

Post a Comment