Tuesday, 13 December 2016

لبوں کے سامنے خالی گلاس رکھتے ہیں

لبوں کے سامنے خالی گلاس رکھتے ہیں
سمندروں کی طرح ہم بھی پیاس رکھتے ہیں
صدائیں دیتے اسے تو ضرور سن لیتا
ہم اس کے آگے کہاں التماس رکھتے ہیں
ہر ایک گام پہ روشن ہوا خدا کا گماں
اسی گماں پہ یقیں کی اساس رکھتے ہیں
ہم اپنے آپ سے پاتے ہیں کوسوں دور اسے
وہی خدا، کہ جسے آس پاس رکھتے ہیں
چڑھا کے دارِ قناعت پہ ہر تمنا کو
جو ایک دل ہے اسے بھی اداس رکھتے ہیں
ہمارے تن پہ کوئی قیمتی قبا نہ سہی
غزل کو اپنی مگر خوش لباس رکھتے ہیں
چلو کہ راہِ تمنا میں چل کے ہم بھی فراغؔ
زمینِ دل پہ غموں کی اساس رکھتے ہیں

فراغ روہوی

No comments:

Post a Comment