سراب جان کے رویا کہ بے سبب تو نہیں
نظر کے سامنے صحرائے کم طلب تو نہیں
درون جاں ہے بس اک بازگشت آہ و فغاں
نصیب سنگ صفت نغمہ و طرب تو نہیں
گلاب شکل شگافوں کی دل دہی ہے عبث
نسیم صبح یہ ہنگام شب دو شب تو نہیں
عداوتوں کا کرم ہے کہ آج زندہ ہوں
وگرنہ شوق میں جینا یوں جاں بہ لب تو نہیں
سحر طراز سی لگنے لگی ہے شام غم
چراغ داغ تمنا ہو کچھ عجب تو نہیں
بجز قیاس یقیں کی اساس تھی بھی کیا
سو کچھ گماں ہی حقیقت ہیں آج سب تو نہیں
نہ ڈھونڈ ہم کو کہ ہم ہیں صدائے گم گشتہ
فقط سکوت ہیں نالہ نہیں، شغب تو نہیں
لے ٹھیک ٹھاک سی میں نے بھی کاٹ دی دنیا
یہ اور بات کہ جینے کا کوئی ڈھب تو نہیں
مجھے بھی یاروں نے تجھ سے جدا نہیں سمجھا
مِرے مزاج پہ مانا کہ تیری چھب تو نہیں
بتوں کے عشق میں مومن کی کٹ گئی تو کیا
میاں یہ ہند ہے، فارس نہیں، عرب تو نہیں
ستم کے سامنے سر کا جھکانا نا ممکن
کبھی کی بات تھی اب چھوڑئیے کہ اب تو نہیں
سمجھیے یوں تو مجھے اپنا بندۂ بے دام
انا پہ حرف جو آنے لگے تو تب تو نہیں
مِرے نوالوں کو اپنی عطا نہ گردانیں
حضور شاہ ہیں ہاں مانتا ہوں رب تو نہیں
یہ کون ہے جو گراں بار ہے سماعت پر
خبر تو لے کہیں تنویر بے ادب تو نہیں
خدا کی مار ہے وصفی سنبھل سکے تو سنبھل
ہے جائے شکر ابھی منزل غضب تو نہیں
تنویر وصفی
No comments:
Post a Comment