میں اسی لیے تو ترے گلے نہیں لگ رہا
تُو بدل گیا ہے، مگر مجھے نہیں لگ رہا
مِرے اچھے وقت میں تُو ہی میرے قریب تھا
میں بہت اداس ہوں، کیا تجھے نہیں لگ رہا
ذرا دُور ہو کہ تجھے میں اپنا بنا سکوں
کہ یہ تیر اتنے قریب سے نہیں لگ رہا
میں وہ شخص ہوں جسے احتجاج کا حق نہیں
سو میں مر رہا ہوں مگر اُسے نہیں لگ رہا
یہاں کون ہے جسے تیرا صدمہ قبول ہو
تِرے چھوڑ جانے کا ڈر کسے نہیں لگ رہا
ولید ولی
No comments:
Post a Comment