Sunday, 7 February 2021

کیا حقیقت ہے کیا کہانی ہے

 کیا حقیقت ہے کیا کہانی ہے

مختصر اپنی زندگانی ہے

ٹوٹ کر بہہ رہی ہیں چٹانیں

آج غم میں بڑی روانی ہے

کاش پردیس سے چلے آؤ

آج کی شب بڑی سہانی ہے

آج تک انتظار ہے اس کا

ایک لڑکی بڑی دِوانی ہے

آج پہچانتا نہیں مجھ کو

میں نے ہر بات جس کی مانی ہے

تجھ کو اپنا بنا کے چھوڑوں گی

اب یہی بات دل میں ٹھانی ہے

اس کو پانے کی آس میں نسرین

ہم نے صحرا کی خاک چھانی ہے


نسرین نقاش

No comments:

Post a Comment