Sunday, 7 February 2021

اے مرے محسنو اے مرے منصفو

 اے مرے محسنو! اے مرے منصفو

زندگی کو قرینے سے رکھنا

دِیے🪔 کو ہوا سے بچانا

ہر اِک خِشت کو خِشت سے جوڑ کر

گھر بنانا مِرا کام ہے

میں کہ ہستی ہوں ہستی کا آغاز ہوں

پر مِری اپنی ہستی تو ہے جھپٹٹا شام کا سُرمئی ملگجا

بیٹھ کر عمر بھر غم کی دہلیز پر

میں نے رشتوں کے ریشم ہی سُلجھائے ہیں

میں نے رشتوں کے ریشم ہی سُلجھائے ہیں

میں نے ہی ظلم کے سارے کانٹے چُنے

راستے میں نے صدیوں کے سیدھے کِیے

رنج کتنا سہا دل نے ہر جبر پر

پھر بھی بیٹھی رہی مسندِ صبر پر

دستک غیر پر کوئی کھولا نہ در

پھر بھی الزام میرے ہی سر آئے ہیں

سنگ لوگوں نے مجھ پر ہی برسائے ہیں

اے مرے محسنو! اے مرے عادلو

مجھ کو کس جرم کی مل رہی ہے سزا

کیوں ہر اِک خوف میرا بچھونا کرو

میرا پل بھر میں ہونا نہ ہونا کرو

شہر دل میرا مسمار کرتے ہو کیوں

شہر تو شہر ہے

آرزوؤں کا ہو یا کہ خوابوں کا ہو

یا مہکتے دمکتے گلابوں کا ہو

زندگی حسن ہے حسن ہے زندگی

میری پہچان ہے زندگی

میری پہچان ہے روشنی

زندگی روشنی، روشنی زندگی


شبنم شکیل

No comments:

Post a Comment