اے نامہ بر تِرے آنے سے اضطراب ہوا
”کوئی جواب نہیں ہے، یہ کیا جواب ہوا؟“
نہ برق طور ہوئی اور نہ آفتاب ہوا
بروز حشر بھی روشن تِرا شباب ہوا
چھری وہ پھیر کے گردن پہ میری کہتے ہیں
”یہ امتحانِ خدا تھا، تُو کامیاب ہوا“
حلال کرتے ہی ظالم نے پڑھ کے بسم اللہ
جگر چبا کے کہا، اب مجھے ثواب ہوا
نگل ہی جاتا خدا کو یہ رنج تنہائی
مِرا بھلا ہو کہ میں اس کو دستیاب ہوا
زمین پر دو مناظر ہی آسمانی ہوئے
جمال طور ہوا یا تِرا شباب ہوا
پڑھی نہ فاتحہ الٹا یہ دفن کر کے کہا
ابھی ہوا، ارے اس پر ابھی عزاب ہوا
خرامِ بزم میں ان کا تھا چار سُو افشا
ہمارے آتے ہی پردہ ہوا، حجاب ہوا
تِرا قلم نہیں حارث یہ ذوالفقار ہوئی
سیاہی میں ہے گھلا خون بُو تراب ہوا
حارث علی
No comments:
Post a Comment