Sunday, 7 February 2021

عشق و الفت کا یہ کرم ہی ہے

 عشق و الفت کا یہ کرم ہی ہے

رو برو جلوۂ صنم ہی ہے

جس نے بخشی غزل کو زیبائش

وہ مِرا دل کُشا قلم ہی ہے

تیری چشمِ بلا کا پروردہ

فتنہ سب سے بڑا ستم ہی ہے

اب مِرے نین کی نہیں سرحد

عین دوزخ مجھے ارم ہی ہے

کیوں ہیں ترساں خور و نجوم و قمر

گھر میں بس تابشِ قَدم ہی ہے

نعمتِ عیش و عشرتِ جاوید

حاصلِ لذتِ الم ہی ہے

چھان مت مجھ میں پارسائی اسد

میرے دفتر میں چشمِ نم ہی ہے


اسد اللہ قادری

No comments:

Post a Comment